ٹرمپ نے ایران تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے ذریعے ملنے والی نئی ایرانی تجاویز قابل قبول نہیں۔ اس کے نتیجے میں جنگ بندی سے متعلق پیش رفت سست پڑ گئی ہے۔
مزید برآں، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے لیکن معاملات آگے نہیں بڑھ رہے۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
اس کے علاوہ، ٹرمپ نے کہا کہ ایران ایسی شرائط پیش کر رہا ہے جن سے امریکا اتفاق نہیں کرتا۔ تاہم انہوں نے ان شرائط کی تفصیل نہیں بتائی۔ اس کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ تجاویز قابل قبول نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران نے امریکا کے ساتھ نئی جنگ کا خدشہ ظاہر کردیا
مزید یہ کہ انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں۔ اس لیے یہ مسئلہ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
دوسری جانب، ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ قیادت میں اختلافات ہیں اور واضح سمت نظر نہیں آتی۔ اس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔
آخر میں، ٹرمپ نے ایران تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی قیادت کے لیے احترام کا اظہار کیا۔ یوں ٹرمپ نے ایران تجاویز پر عدم اطمینان، مذاکرات میں تعطل برقرار رکھا۔